They said: If he stealeth, a brother of his stole before. But Joseph kept it secret in his soul and revealed it not unto them. He said (within himself): Ye are in worse case, and Allah knoweth best (the truth of) that which ye allege.
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
They said: O ruler of the land! Lo! he hath a very aged father, so take one of us instead of him. Lo! we behold thee of those who do kindness.
وہ کہنے لگے کہ اے عزیز اس کے والد بہت بوڑھے ہیں (اور اس سے بہت محبت رکھتے ہیں) تو (اس کو چھوڑ دیجیےاور) اس کی جگہ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیئے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آپ احسان کرنے والے ہیں
So, When they despaired of (moving) him, they conferred together apart. The eldest of them said: Know ye not how your father took an undertaking from you in Allah's name and how ye failed in the case of Joseph aforetime? Therefore I shall not go forth from the land until my father giveth leave or Allah judgeth for me. He is the Best of Judges.
جب وہ اس سے ناامید ہوگئے تو الگ ہو کر صلاح کرنے لگے۔ سب سے بڑے نے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ تمہارے والد نے تم سے خدا کا عہد لیا ہے اور اس سے پہلے بھی تم یوسف کے بارے میں قصور کر چکے ہو تو جب تک والد صاحب مجھے حکم نہ دیں میں تو اس جگہ سے ہلنے کا نہیں یا خدا میرے لیے کوئی اور تدبیر کرے۔ اور وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے
Return unto your father and say: O our father! Lo! thy son hath stolen. We testify only to that which we know; we are not guardians of the Unseen.
تم سب والد صاحب کے پاس واپس جاؤ اور کہو کہ ابا آپ کے صاحبزادے نے (وہاں جا کر) چوری کی۔ اور ہم نے اپنی دانست کے مطابق آپ سے (اس کے لے آنے کا) عہد کیا تھا مگر ہم غیب کی باتوں کو جاننے اور یاد رکھنے والے تو نہیں تھے
(And when they came unto their father and had spoken thus to him) he said: Nay, but your minds have beguiled you into something. (My course is) comely patience! It may be that Allah will bring them all unto me. Lo! He, only He, is the Knower, the Wise.
(جب انہوں نے یہ بات یعقوب سے آ کر کہی تو) انہوں نے کہا کہ (حقیقت یوں نہیں ہے) بلکہ یہ بات تم نے اپنے دل سے بنالی ہے تو صبر ہی بہتر ہے۔ عجب نہیں کہ خدا ان سب کو میرے پاس لے آئے۔ بےشک وہ دانا (اور) حکمت والا ہے
And he turned away from them and said: Alas, my grief for Joseph! And his eyes were whitened with the sorrow that he was suppressing.
پھر ان کے پاس سے چلے گئے اور کہنے لگے ہائے افسوس یوسف (ہائے افسوس) اور رنج والم میں (اس قدر روئے کہ) ان کی آنکھیں سفید ہوگئیں اور ان کا دل غم سے بھر رہا تھا
Go, O my sons, and ascertain concerning Joseph and his brother, and despair not of the Spirit of Allah. Lo! none despaireth of the Spirit of Allah save disbelieving folk.
بیٹا (یوں کرو کہ ایک دفعہ پھر) جاؤ اور یوسف اور اس کے بھائی کو تلاش کرو اور خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو۔ کہ خدا کی رحمت سے بےایمان لوگ ناامید ہوا کرتے ہیں
And when they came (again) before him (Joseph) they said: O ruler! Misfortune hath touched us and our folk, and we bring but poor merchandise, so fill for us the measure and be charitable unto us. Lo! Allah will requite the charitable,
جب وہ یوسف کے پاس گئے تو کہنے لگے کہ عزیز ہمیں اور ہمارے اہل وعیال کو بڑی تکلیف ہو رہی ہے اور ہم تھوڑا سا سرمایہ لائے ہیں آپ ہمیں (اس کے عوض) پورا غلّہ دے دیجیئے اور خیرات کیجیئے۔ کہ خدا خیرات کرنے والوں کو ثواب دیتا ہے
They said: Is it indeed thou who art Joseph? He said: I am Joseph and this is my brother. Allah hath shown us favour. Lo! he who wardeth off (evil) and endureth (findeth favour); for lo! Allah loseth not the wages of the kindly.
وہ بولے کیا تم ہی یوسف ہو؟ انہوں نے کہا ہاں میں ہی یوسف ہوں۔ اور (بنیامین کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگے) یہ میرا بھائی ہے خدا نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے۔ جو شخص خدا سے ڈرتا اور صبر کرتا ہے تو خدا نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا
Then, when the bearer of glad tidings came, he laid it on his face and he became a seer once more. He said: Said I not unto you that I know from Allah that which ye know not?
جب خوشخبری دینے والا آ پہنچا تو کرتہ یعقوب کے منہ پر ڈال دیا اور وہ بینا ہو گئے (اور بیٹوں سے) کہنے لگے کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ میں خدا کی طرف سے وہ باتیں جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے
And he placed his parents on the dais and they fell down before him prostrate, and he said: O my father! This is the interpretation of my dream of old. My Lord hath made it true, and He hath shown me kindness, since He took me out of the prison and hath brought you from the desert after Satan had made strife between me and my brethren. Lo! my Lord is tender unto whom He will. He is the Knower, the Wise.
اور اپنے والدین کو تخت پر بٹھایا اور سب یوسفؑ کے آگے سجدہ میں گر پڑے اور (اس وقت) یوسف نے کہا ابا جان یہ میرے اس خواب کی تعبیر ہے جو میں نے پہلے (بچپن میں) دیکھا تھا۔ میرے پروردگار نے اسے سچ کر دکھایا اور اس نے مجھ پر (بہت سے) احسان کئے ہیں کہ مجھ کو جیل خانے سے نکالا۔ اور اس کے بعد کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں فساد ڈال دیا تھا۔ آپ کو گاؤں سے یہاں لایا۔ بےشک میرا پروردگار جو چاہتا ہے تدبیر سے کرتا ہے۔ وہ دانا (اور) حکمت والا ہے